زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحین
إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿099:001﴾ - جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی
وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿099:002﴾ اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی
وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا ﴿099:003﴾ انسان کہنے لگے گا اسے کیا ہوگیا ہے۔
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ﴿099:004﴾ اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا ﴿099:005﴾ اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔
***************
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو بیشمار نشانیاں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں زلزلوں کی کثرت ہوگی.کسی زمانے میں جب کہیں سے یہ اطلاعّ آتی تھی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے اور اتنے لوگ اسکے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں تو دیندار اور خوف خدا رکھنے والے لوگ توبہ استغفار کرنے لگتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی رو سے یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے. مگر آجکل روزانہ ہی کہیں نہ کہیں زلزلے نمودارہو رہے ہیں اور انکے نتیجے میں جانی اور مالی خسائروقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں. مگر لوگوں کے دلوں میں اس بات کا خوف جانگزین نہیں ہوتا کہ زلزلوں کا اس شدت کے ساتھ آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے بلکہ دلوں پر خوف کی جگہ ایکبے حسی کی کیفیت طاری ہو چکی ہے اور نصیحت حاصل کرنے کی بجائے تجاہل سے کام لیا جانے لگا ہے. قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورۃالزلزال میں وقوع قیامت کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ:جب زمیں اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائیگی: (سورۃ الزلزال۔ آیۃ ۱) مفسرین اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اس وقت زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں بلکہ پورے کا پورا کرہ ارض ہلا دیا جائیگا جسکے نتیجے میں دنیا کا وجود ختم ہو جائیگا. مگر اس عظیم زلزلے کے واقع ہو نے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمین کے مختلف حصوں پر زلزلوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجائیگا
اس میں کوئ شک نہیں کہ ان دنوں بہت سارے ممالک میں جوزلزلے آرہے ہیں وہ انہیں نشانیوں میں سے ہیں جن سے اللہ تعالی اپنے بندوں کوتخویف دلاتا اور یاددہانی کراتا ہے ، یہ سب زلزلے اور دوسرے تکلیف دہ مصائب جن کا سبب شرک وبدعت اورمعاصی وگناہ ہیں ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے :
{ تمہیں جوکچھ مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے اپنےہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اوروہ ( اللہ تعالی ) توبہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے } الشوری ( 30 ) ۔
اوراللہ سبحانہ وتعالی نے یہ بھی فرمایا :
{ تجھے جوبھلائ ملتی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سےہے اور جوبرائ پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے } النساء ( 79 ) ۔
اللہ تعالی نے سابقہ امتوں کے متعلق فرمایا :
{ پھرتو ہم نے ہرایک کواس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کرلیا ان میں سے بعض پرہم نے پتھروں کی بارش برسائ اوربعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبودیا اوراللہ تعالی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنے آپ پر ظلم کررہے ہيں } العنکبوت ( 40) ۔